بنگلورو،26/اپریل(ایس او نیوز) ریاستی حکومت نے بی بی ایم پی کے بجٹ کو مسترد کردیاہے۔ محکمہئ مالیات کے اعتراض کے سبب 19 فروری کو پیش کیا گیا بجٹ مسترد کردیا گیا ہے۔ اس مرتبہ ٹیکس اینڈ فائنانس کمیٹی کی چیر پرسن ہیمالتا گوپالیا نے 10688 کروڑ روپیوں کا بی بی ایم پی بجٹ پیش کیا تھا جو ترمیم کے بعد 127477کروڑ تک پہنچ گیاتھا۔ نظر ثانی شدہ بجٹ کو بھی بی بی ایم پی کونسل نے منظوری دے دی تھی۔ مگر بی بی ایم پی کمشنر منجوناتھ پرساد نے حکومت کو روانہ مکتوب میں بتایاتھا کہ بی بی ایم پی بجٹ 9/ہزار کروڑ روپیوں سے متجاوز ہوگیا تو کارپوریشن پر مالی بوجھ پڑ سکتا ہے،جس کے پیش نظر حکومت نے بی بی ایم پی بجٹ کو 90574 کروڑ تک محدود کردیاہے۔جس سے حکمران کانگریس اور جے ڈی ایس کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اب دوبارہ اس بجٹ کو کونسل میں منظوری لینے کی ضرورت ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ بی بی ایم پی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بجٹ نامنظور کرتے ہوئے حکومت سے واپس کیاگیا ہے۔ جس پر اپوزیشن لیڈر پدمانابھا ریڈی نے شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس طرح غیر ٹکینکی بجٹ پیش کرنے پر میئر گنگامبیکے کو فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہئے، اسی طرح اسٹانڈنگ کمیٹی چیر پرسن ہیما لتا گوپالیا کو بھی مستعفی ہوجانا چاہئے۔ انہوں نے بتایاکہ جب کونسل میں 13ہزار کروڑ روپیوں کا بجٹ پیش کیاگیا تب بھی انہوں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر ٹکینکی قرار دیاتھا اب حکومت کے ذریعے اسے مسترد کردئے جانے کے بعد کانگریس اور جے ڈی ایس دونوں کو پیشمانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر تب ان کے مشورے پر عمل کیا جاتا تو شاید یہ دن دیکھنے کی نوبت نہیں آتی۔ انہو ں نے بتایاکہ حکومت کی ہدایت کے مطابق اب دوبارہ بی بی ایم پی کونسل میں بجٹ پیش کرنا پڑے گا جس کے بعد اسے منظور ی کے لئے روانہ کرنا ہے۔ جس کے لئے تقریباً دو ماہ کا عرصہ بیت جائے گا۔ جس سے ترقیاتی کاموں پر برا اثر پڑنے والا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر میئر اور اسٹانڈنگ کمیٹی چیرپرسن شہر کے عوام سے معذرت خواہی کریں،اور اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔تازہ بجٹ میں چار ہزار کروڑروپیوں کی کمی سے کئی اہم ترقیاتی منصوبے التواء کا شکار ہوسکتے ہیں۔